Skip to main content

Bismillah

Hagio Sofiaچوتھی صدی  شاہنشاہ تھیوڈوسیس اول (Theodosius 1) نے شہر دمشق  میں " مقدس یوحنا اصطباغی " کا عالی  شان گرجہ (Church Of St.John The Baptist) تعمیر کیا۔ جب اہل اسلام نے اس شہر پر قبضہ کرلیا تو انہو ں نے  اس خوبصورت گرجا کے آدھے حصہ کو مسجدبنالیا ۔اس گرجا کی بیرونی مشرقی دیوار کے پتھروں پر یونانی حروف میں یہ کتبہ کنندہ تھا" اے مسیح تیری بادشاہی ابدی بادشاہی  ہے اور تیری حکومت پشت در پشت  قائم رہتی ہے ۔"(زبور شریف 145 آیت 14) خدا کی قدرت دیکھو یہ کتبہ عرب فاتحین کےہاتھوں سے محفوظ رہا ۔ آٹھویں صدی  کے شروع میں بنی امیہ  نے گرجہ کی اندرونی  عمارت کو شہید کرکے اس پر ایک عالی شان عمارت کھڑی  کردی  جس کی آرائش  پر بارہ سویونانی  صناع  مامور تھے  لیکن گرجا کی بیرونی  دیوار  ان کی دستبرد سے محفوظ رہ گئی۔  گیارہویں صدی میں اس مسجد  کو آگ لگ گئی  لیکن یہ دیوار   بچ گئی اور اس پر کا کتبہ من وعن محفوظ رہا ۔  یہ مسجد دوبارہ تعمیر کی گئی لیکن چودہویں صدی  میں تیمور کی لوُٹ کے دوران میں مسجد کو نقصان پہنچا۔ لیکن دیوار کا کتبہ جو کا توں   قائم رہا۔  اس دیوار کے قریب اہل اسلام نے منارة المسیح  بھی بنایاہے اور حدیث کے مطابق  سیدنا عیسیٰ مسیح  کی آمد ثانی   اسی منارہ پر ہوگی۔ پس یہ کتبہ صدیوں سے  کلیسیا کے لازوال ایمان کا خاموش گواہ رہا ہے  کہ " مسیح کی بادشاہی ابدی بادشاہی ہے اوراس کی حکومت  پشت در پشت قائم رہتی ہے ۔"

         جب مسلمانوں نے مسیحی دارالسلطنت  قسطنطنیہ کو جس کا موجودہ نام استنبول ہے  فتح کیا تو وہاں  کے عالی شان گرجا سینٹ  صوفیا (St. Sophia Church) کو مسجد بنادیا گیا۔ اور زمین سے ایک سو اسی فٹ اونچی جگہ  پر جہاں صلیب نصب تھی ہلال کانشان قائم کردیا گیا۔ مسلمان فاتحین نے گرجا کی عمارت میں مسیحیت  کے تمام نشانات مٹادئے۔ اس کے اندر قرآنی آیات  لکھی گئيں۔ اسلامی منبر کھڑا کردیا گیا۔

اور ایک طاق قبلہ روبنائی گئی تاکہ نماز کےوقت اس جانب نمازی منہ پھیر سکیں۔ گرجا کے مشرقی کونہ میں رنگ برنگ قیمتی  شیشوں اور چمکدار پتھروں  کے نقش ونگار سے منجی عالمین سیدنا مسیح کی شبیہ مبارک بنی تھی جس میں آپ نے اپنے ہاتھوں کو پھیلاکر تمام دنیا کو برکت دے رہے تھے۔ ترکوں نے اس تصویر پر نقشین بیل بوٹے بناکر اس کو چھپا دیا۔ امتداد  زمانہ سے وہ بیل بوٹے مٹ گئے اور اب منجی عالمین کی مبارک شبیہ دھندلی طور پر نظر آنے لگی ہے اور آپ اس مسجد سے اپنے ہاتھ پھیلا کر تمام دنیاکو برکت دے رہے ہیں۔

         پانچ سال کا عرصہ ہوا جب اسی مسجد کے شاہی دروازہ کو صاف کیا گیا تو سیدنا مسیح کی ایک اور تصویر پیچی کاری اور جڑاؤ کام کی نکلی ۔ اس تصویر میں ہمارے ہمارے آقا ومولا ایک تخت پر بیٹھے ہیں۔  آپ کے ہاتھ میں ایک کتاب کھلی ہے جس پر لکھا ہے ۔" السلام علیکم میں دنیا کا نور ہوں۔"(Manchester Guardian Weekly March 16 1934 , p213).

         یہ تصویر اور کتبے ہم کو یاد دلاتے ہیں کہ گو تاریخ دنیا میں بسا اوقات  ایسا معلوم ہوتا ہے کہ  مخالف  طاقتوں نے مسیحیت  کے آفتاب صداقت کوچھپادیا ہے تاہم بالاآخر اس کی روشنی ہر قسم کی تاریکی پر غالب آتی ہے ۔"  کلمتہ الله میں زندگی ہے اور  آپ کی زندگی آدمیوں کا نور ہے نور تاریکی  میں چمکتا ہے اور تاریکی  اس پر غالب نہیں آسکتی "(انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا رکوع 1 آیت 4و5)سلطان السلاطین مسیح ازل  سے ابد تک  تخت نشین ہیں ۔ آپ کی بادشاہی ابدی بادشاہی ہے ۔ آپ کی حکومت پشت در پشت قائم رہتی ہے ۔ آپ تمام ممالک واقوام کو اپنی آغوش  محبت  میں لےکر برکت دیتے ہیں اور کل بنی نوع انسان کو برکت دےکرفرماتے ہیں کہ "السلام علیکم  دنیا کا نور میں ہوں جو میری پیروی کرے گا اندھیرے میں نہ چلیگا بلکہ زندگی کا نور پائیگا۔" (انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا رکوع  8 آیت 12)۔

ہولی ٹرنٹی چرچ۔ لاہور

اکتوبر 1939ء برکت الله

سلسلہِ حکایات الہٰیا

Al-Adlدنیا میں غالباّاس سے زیادہ محیر العقول کوئی امر نہیں ہوگا کہ علم وتہذیب سے دُور افتادہ ملک کنعان (موجودہ ‏فلسطین) کے ایک جاہل اور حقیر صوبہ گلیل کے ایک معمولی غریب گھرانے میں ایک ایسی شخصیت پیدا ہوئی جس کی Listen

افتادہ ملک

Al-Adlدنیا میں غالباّاس سے زیادہ محیر العقول کوئی امر نہیں ہوگا کہ علم وتہذیب سے دُور افتادہ ملک کنعان(موجودہ ‏فلسطین) کے ایک جاہل اور حقیر صوبہ گلیل کے ایک معمولی (موجودہ ‏فلسطین) کے ایک جاہل اور حقیر صوبہ گلیل کے ایک معمولی غریب گھرانے میں ایک ایسی شخصیت پیدا ہوئی جس کی Listen

افتادہ ملک کنعان

Al-Adlدنیا میں غالباّاس سے زیادہ محیر العقول کوئی امر نہیں ہوگا کہ علم وتہذیب سے دُور افتادہ ملک کنعان(موجودہ ‏فلسطین) کے ایک جاہل اور حقیر صوبہ گلیل کے ایک معمولی (موجودہ ‏فلسطین) کے ایک جاہل اور حقیر صوبہ گلیل کے ایک معمولی غریب گھرانے میں ایک ایسی شخصیت پیدا ہوئی جس کی Listen

ایک معمولی (موجودہ ‏

Al-Adlدنیا میں غالباّاس سے زیادہ محیر العقول کوئی امر نہیں ہوگا کہ علم وتہذیب سے دُور افتادہ ملک کنعان(موجودہ ‏فلسطین)افتادہ ملک کنعان(موجودہ ‏فلسطین) کے ایک جاہل اور حقیر صوبہ گلیل کے ایک معمولی (موجودہ ‏فلسطین) کے ایک جاہل اور حقیر صوبہ گلیل کے ایک معمولی غریب گھرانے میں ایک ایسی شخصیت پیدا ہوئی جس کی Listen

معمولی غریب گھرانے

Al-Adlدنیا میں غالباّاس سے زیادہ محیر العقول کوئی امر نہیں ہوگا کہ علم وتہذیب سے دُور افتادہ ملک کنعان(موجودہ ‏فلسطین)افتادہ ملک کنعان(موجودہ ‏فلسطین) کے ایک جاہل اور حقیر صوبہ گلیل کے ایک معمولی (موجودہ ‏فلسطین) کے ایک جاہل اور حقیر صوبہ گلیل کے ایک معمولی غریب گھرانے میں ایک ایسی شخصیت پیدا ہوئی جس کی Listen

حقیقت کی تلاش

ہیں یہ خوشی کی خبر دیتے ہیں کہ وہ اپنے گناہوں کومغلوب کرکے ازسرِ نوایسی زندگی بسر کرسکتے ہیں جومنشائے الہٰی کے مطابق ہو۔. . . Listen